ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / شعبہ دینیات(سنی)میں وائس چانسلر کے لئے الوداعی تقریب کا انعقاد

شعبہ دینیات(سنی)میں وائس چانسلر کے لئے الوداعی تقریب کا انعقاد

Wed, 10 May 2017 20:09:19    S.O. News Service

علی گڑھ، 10/مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کے شعبہئ سنّی دینیات میں وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے لئے الوداعی تقریب کا انعقاد عمل میں آیاجس کا آغاز قاری محمد فرمان الحق صاحب کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔  صدرشعبہ دینیات (سنی) پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے شیخ الجامعہ کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ موقع خوشی ومسرت کا بھی اوررنج وغم کا بھی۔ اس لئے کہ جب شیخ الجامعہ کے کاندھوں پر اس ذمہ داری کا بارآیا تو یہ جملہ آپ کا تکیہ کلام بن گیا ’یونیورسٹی کو اول نمبر کی یونیورسٹی بنانا ہے‘ اوراس پر آپ نے ہمہ جہت محنت کی۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہماری یونیورسٹی کی رینکنگ قابل ذکر حدتک آگے رہی۔آپ کے ان کارناموں کی وجہ سے یونیورسٹی کی تاریخ میں آپ کو ہمیشہ یادرکھاجائے گا۔پروفیسرمحمدسلیم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ شیخ الجامعہ کے پانچ سال بہت ہی سنہرا دوررہا ہے۔ یونیورسٹی کیلئے آپ کا اول آخر سے بہتر تھا اورآخر اول سے بہتر ہے، جس شان سے آپ آئے تھے اسی شان سے رخصت ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے محبت سے لوگوں کے دل جیتے ہیں اورآپ ایسے واحد شیخ الجامعہ ہیں جنہوں نے مدارس کے علماء وذمہ داران کو بھی علی گڑھ تحریک سے جوڑدیا۔ ای سی ممبر صدرشعبہ نفسیات پروفیسر حافظ محمد الیاس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جنرل شاہ جمہوری قدروں کے علمبردار اپنے پورے پانچ سال میں رہے اورآپ کا طرہ امتیازیہ رہا کہ آپ نے اپنے آپ کو کسی پریشر گروپ سے صلح نہیں کی، ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی اور انصاف سے کام لیا۔ مجلس عاملہ کے رکن کی حیثیت سے میں بلاجھجھک یہ کہہ سکتا ہوں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ماضی قریب کی تاریخ میں آپ کو کوئی ثانی نظرنہیں آتا۔ پروفیسرعلی محمد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ کا پانچ سالہ دور ایک تاریخ ہے، آپ نے اپنے دور میں مسلمانوں کے اتحاد کی کامیاب جدوجہدکی اور ایسے تعمیراتی کام کئے کہ یونیورسٹی کا نقشہ ہی بدل دیا۔ یوجی سی اکیڈمک اسٹاف کالج کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے کہا کہ یونیورسٹی سے میر اتعلق بہت ہی قدیم ہے، جس میں میں نے دس شیخ الجامعہ دیکھے ہیں مگر آپ کا دور کئی اعتبارسے منفرد ہے۔ اول یہ کہ شدیداشتعال کے موقع پر بھی آپ کو بردبار ہی پا یا، دوم یہ کہ ان کا اس چمن سے مخلصانہ تعلق ہے جس سے ہر وقت یہ فکر سوار رہتی ہے کہ ادارہ کو مزید امتیاز، مزید کمال اورمزید نیک نامی حاصل ہو۔ سوم یہ کہ آپ نے اپنے دور میں باصلاحیت اساتذہ کا تقرر کیا آج کے یہ نوجوا ن اساتذہ کل کے توانا اور مستحکم علی گڑھ کی نود ہیں۔ نیز آپ نے کہا کہ پروفیسر توقیر عالم نے شیخ الجامعہ پر جو کتاب مرتب کی ہے وہ نہایت ہی اعلی درجہ کا خراج تحسین ہے یونیورسٹی کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ صدارتی خطاب میں شیخ الجامعہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ مجھ پر جوکتاب لکھی گئی ہے اس کا میں شکر گذار ودعاگوہوں اور کوشش کروں گا کہ اس کے ایک ایک لفظ کو پورا کروں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ یہ ایسے ہی لکھ دیا گیا ہے۔ اپنے پانچ سالہ دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا تھا میری پوری ٹیم نے اخلاص سے کا م کیا ہے اوراساتذہ وطلبہ نے ساتھ دیا۔ میں اپنے اس شعبہ کے آخری لیکچر میں دینیات کے اساتذہ کو کچھ ذمہ داری دیکر رخصت ہورہا ہوں ایک یہ کہ فرقوں میں تقسیم ہونے سے احتراز کیجئے اورلوگوں کو متحد کیجئے۔ دوم یہ کہ خواتین کو جو حقوق اسلامی تعلیمات نے دیے ہیں ان کی ادائیگی میں یہ شعبہ آگے آئے۔ سوم یہ کہ ہمیں اپنے برادران وطن کے مذہب کو بھی پڑھنا اورسمجھنا چاہیے۔ اخیر میں آپ نے تما م حاضرین کو یہ یقین دلایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیلئے ہم ہر وقت شانہ بشانہ ساتھ دینگے اورجوعزت آپ نے بخشی ہے اس کیلئے آپ حضرات شکریہ کے حقدارہیں۔ اس الوداعی پروگرام میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی خاتون اول محترمہ سیمی صبیحہ شاہ کے علاوہ اے ایم یو کے رجسٹرار حافظ جاوید اختر، شعبہ ماس کمیونکیشن کے پروفیسر شافع قدوائی،شعبہ عربی کے صدر پروفیسر سمیع اختر، شعبہ اسلامیات کے پروفیسرمحمد اسماعیل، جے این میڈیکل کالج کے شعبہ سرجری سے پروفیسرحبیب رضا، شعبہ بوٹنی کے پروفیسر یونس خلیل اور شعبہ سیاسیات کے پروفیسر نفیس انصاری ودیگر شعبہ کے اساتذہ نیزشعبہ سنی دینیات کے اساتذہ اورطلبہ وطالبات شریک ہوئے۔ مولانا حبیب اللہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے کلماتِ تشکرپرپروگرام کا اختتام ہو ا۔نظامت کے فرائض ڈاکٹرمحمدصادق نے انجام دیئے۔ 
 


Share: